ریتڑہ(نامہ نگار) بااثر نوجوان نے غریب مزدور کی کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔بچی خون میں لت پت ہو گئی۔چیخ وپکار پر لوگوں کے اکٹھا ہوجانے پر نوجوان بھاگ جانے میں کامیاب ہوگیا۔بچی کا والدمیڈیکل رپورٹ کیلئے ہسپتال کے دھکے کھاتا رہا۔ لیڈی ڈاکٹر دو دن تک لیت ولعل سے کام لیتی رہی۔تفصیلات کے مطابق ریتڑہ کی نواحی بستی بولانی میں بااثر نوجوان مکی ولد اللہ وسایا نے غریب مزدور عبدالغفور کی سات سالہ کمسن بیٹی عظمیٰ بی بی کو زبردستی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ بچی کی چیخوں کی آواز سن کر اہل محلہ اکٹھے ہوئے تو نوجوان بچی کو خون میں لت پت چھوڑکر بھاگ جانے میں کامیاب ہوگیا۔پولیس تھانہ ریتڑہ نے ملزم مکی ولد اللہ وسایا قوم میرانی سکنہ بستی بولانی کے خلاف مقدمہ نمبر 58/15 زیر دفعہ 376ت پ کے تحت مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔بچی کے والد عبدالغفور نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ اس کی کمسن بچی جس کی عمر سات آٹھ سال ہے گھر سے باہر کھیلنے گئی تو ملزم مکی ولد اللہ وسایا نے اسے زبردستی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ بچی کی چیخوں کی آواز سن کر وہ موقعہ واردات پر پہنچے تو ملزم اسے اور دیگر لوگوں کو دیکھ کر بچی کو خون میں لت پت چھوڑ کر بھاگ گیا۔بعد ازاں وہ پولیس کے ہمراہ بچی کو میڈیکل رپورٹ کیلئے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تونسہ لے گیا جہاں پر خاتون میڈیکو لیگل ایگزامینر لیڈی ڈاکٹر روبینہ قیصرانی نے بچی کا طبی معائنہ کرنے سے انکار کیا۔لواحقین کے احتجاج پر مختلف حیلوں بہانوں سے ٹرخاتی رہی اور دو دن تک بچی کا طبی معائنہ نہ کیا۔بعد ازاں مذکورہ لیڈی ڈاکٹر نے ملزم پارٹی سے بھاری نذرانہ لے کر میڈیکل رپورٹ کو خراب کر دیا اور مظلوم بچی کو انصاف دینے کی بجائے ظالموں کا ساتھ دیا۔بچی کے والد عبدالغفور نے کہا کہ ملزم مکی ولد اللہ وسایا پولیس اور دوسرے معززین کے سامنے زیادتی کا اقرار کر چکا ہے اور میں خود بچی کو جائے وقوعہ سے خون میں لت پت گھر لے کر آیا تھا۔جبکہ لیڈی ڈاکٹر نے اپنی رپورٹ میں کسی قسم کی زیادتی کا ذکر نہیں کیا بلکہ بچی کی حالت کو نارمل قرار دے ڈالا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں خادم اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف سے لیڈی ڈاکٹر روبینہ قیصرانی کے خلاف سخت سے سخت تادیبی کارووائی اور اپنی مظلوم بچی اور اہل خانہ کو انصاف فراہم کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔
زیر حراست ملزم مکی


ایک تبصرہ شائع کریں